جمعرات 5 فروری 2026 - 14:47
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 73واں یومِ علیؑ عقیدت و وقار سے منعقد؛ امام علیؑ کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا

حوزہ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علی سوسائٹی کے زیرِ اہتمام حضرت امام علیؑ کے یومِ ولادت کی مناسبت سے 73واں یومِ علیؑ علمی خطابات، روحانی نذرانوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ عقیدت و وقار سے منعقد ہوا، جس میں مقررین نے امام علیؑ کی تعلیماتِ عدل، علم اور بین المذاہب ہم آہنگی کو عصرِ حاضر کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ/ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی علی سوسائٹی کے زیرِ اہتمام حضرت امام علی علیہ السلام کے یومِ ولادت کی مناسبت سے 73ویں یومِ علیؑ کی پروقار تقریبات کینیڈی آڈیٹوریم میں علمی خطابات، روحانی نذرانوں، ثقافتی پیشکشوں اور فکری نشستوں کے ساتھ نہایت عقیدت و احترام کے ماحول میں منعقد ہوئیں۔ اس اہم تقریب میں علماء، اساتذہ، معزز مہمانان، شعراء، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 73واں یومِ علیؑ عقیدت و وقار سے منعقد؛ امام علیؑ کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا

تقریب کا آغاز سید فیضان کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ محمد ذوقین نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کرکے سامعین کو روحانی کیفیت سے ہمکنار کیا۔ اس کے بعد علی سوسائٹی کے طلبہ نے مہمانانِ گرامی کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور یادگاری مومینٹوز، گلدستے اور اعزازی بیجز پیش کیے۔

استقبالی و ابتدائی خطابات

علی سوسائٹی کے سرپرست اور شعبۂ شیعہ دینیات اے ایم یو کے چیئرمین پروفیسر اصغر اعجاز نے استقبالی خطاب میں حضرت امام علیؑ کی ہمہ جہت شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی ولادت خانۂ کعبہ میں اور شہادت مسجد میں ہوئی، اور پوری حیات عبادتِ الٰہی، خدمتِ خلق، علم، شجاعت اور عدل و انصاف کی عملی تفسیر ہے۔

بعد ازاں طلبہ منتظم شہاب کوثر نے علی سوسائٹی کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے تعلیمی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اسی موقع پر ٹیم تعلقاتِ عامہ کی جانب سے ولی حسن کی ہدایت کاری میں تیار کردہ دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی جس میں یومِ علیؑ کی تاریخی روایت، فکری وراثت اور موجودہ سرگرمیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مہمانانِ خصوصی کے خطابات

رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نمائندۂ ہند حجت الاسلام ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ علیؑ صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ امام علیؑ کی زندہ اخلاقی میراث سے وابستگی کا نام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عقل، انصاف، ذمہ داری اور انسانی وقار حقیقی ایمان اور صالح معاشرے کی بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق اگر طاقت انصاف سے خالی ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ عدل ہی معاشرتی نظام کی روح ہے۔

انہوں نے امام علیؑ کی بین المذاہب اور بین الثقافتی تعلیمات کو ہندوستان جیسے متنوع معاشرے کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اتحاد، سماجی ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر زور دیا۔

سرینگر سے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام علیؑ سے حقیقی عقیدت محض جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ ظلم کے خلاف عملی جدوجہد، اخلاقی استقامت اور سماجی انصاف کے قیام میں مضمر ہے۔ انہوں نے مبالغہ آمیز بیانیوں سے ہٹ کر امام علیؑ کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 73واں یومِ علیؑ عقیدت و وقار سے منعقد؛ امام علیؑ کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا

صدارتی خطاب

شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) پروفیسر نعیمہ خاتون نے صدارتی خطاب میں حضرت امام علیؑ کو علم، حکمت، شجاعت اور اعلیٰ اخلاق کا بے مثال نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امام علیؑ نبی اکرم ﷺ کی علمی میراث کے امین اور علم و حکمت کے ایک سرسبز گلستان تھے۔ انہوں نے طلبہ کو خود احتسابی، اعلیٰ کردار اور مفید علم کے حصول کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہی کامیابی اور شناخت کی اصل بنیاد ہے۔

انہوں نے ایران اور اے ایم یو کے درمیان جاری تعلیمی روابط کا ذکر کرتے ہوئے علمی و ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دیگر علمی و فکری خطابات

پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے حضرت علیؑ کی علمیت، شجاعت اور عدل کو طلبہ کے لیے عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی جدوجہد مساوات اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے تھی۔

مولانا سید نجیب الحسن زیدی (مسجد ایرانیان) نے امام علیؑ کی آفاقی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؑ کی حیات طیبہ دیانت، علم، شجاعت اور عدل کا ایسا جامع نمونہ ہے جو آج بھی انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔

ڈاکٹر سید فیضان وارثی، سجادہ نشین خانقاہ زیدیہ وارثیہ الٰہ آباد، نے قرآن اور اہلِ بیتؑ کو اصل سرچشمۂ ہدایت قرار دیتے ہوئے امام علیؑ کی روحانی اور فکری خدمات کو اجاگر کیا۔

شعری نذرانۂ عقیدت

معروف شعراء ہلال نقوی (لکھنؤ) اور مولانا سید معراج زیدی (منگلاور) نے حضرت امام علیؑ اور اہلِ بیتؑ کی شان میں منظوم کلام پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

مقابلہ جات کے نتائج

یومِ علیؑ مقابلہ جات 2026 کے نتائج کا اعلان بھی کیا گیا:

پوسٹر سازی: سیدہ آل زہرا اول، امان خان دوم، ساجد عباس رضوی سوم

مضمون نویسی: علینہ ناز اول، تنو یادو دوم، سید میثم رضا زیدی سوم

تقریری مقابلہ: ابو داؤد اول، محمد قائم حسین دوم، انسیا حسین سوم

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 73واں یومِ علیؑ عقیدت و وقار سے منعقد؛ امام علیؑ کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا

اختتامی مرحلہ

تقریب کے اختتام پر علی سوسائٹی کے صدر پروفیسر مظہر عباس (شعبۂ آرتھوپیڈک سرجری، اے ایم یو) نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں، مقررین، منتظمین اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 73واں یومِ علیؑ عقیدت و وقار سے منعقد؛ امام علیؑ کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا

مقررین نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ حضرت امام علیؑ کی تعلیمات — خصوصاً عدل، علم، رواداری، انسانی وقار اور بین المذاہب ہم آہنگی — آج کے عالمی اور کثیر الثقافتی معاشروں کے لیے نہایت اہم رہنما اصول فراہم کرتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha